بنگلورو۔30/اگست(ایس او نیوز) سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کیلئے چیرمینوں اور نائب چیرمینوں کے تقرر کی فہرست تیار ہے، بہت جلد اسے منظر عام پر لایا جائے گا۔یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی۔میسور میں اپنی رہائش گاہ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے موجودہ چیرمینوں کی میعاد 24اگست کو پوری ہوچکی ہے۔ نئے چیرمینوں کی فہرست تیار ہوچکی ہے، اعلیٰ کمان سے مشورہ کے فوری بعد جاری کردیا جائے گا۔فہرست میں علاقائی نمائندگی، ذات پات اور سماجی انصاف کی بنیادوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ دریائے کاویری سے تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے حکومت تملناڈو کی طرف سے بند کے اہتمام پر تبصرہ سے گریز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بند کا اہتمام وہاں کی حکومت اور عوام کے اختیار میں ہے۔کرناٹک نے واضح کردیا ہے کہ تملناڈو کو پانی فراہم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہاکہ فی الوقت ریاست کرناٹک کی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ یہاں کی ضروریات کو قربان کرکے تملناڈو کو پانی فراہم کیا جائے۔ کرناٹک کے بیشتر علاقوں میں عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔ ان حالات میں تملناڈو کو فصلوں کیلئے پانی کہاں سے دیا جاسکتا ہے۔ راکیش سدرامیا کی موت کے بعد پہلی مرتبہ اپنی رہائش گاہ پر جنتادرشن کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر اپنے چھوٹے فرزند ڈاکٹر یتیندرا کو ساتھ رکھا۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا سے اس وقت ورونا حلقہ کے عوام نے گذارش کی کہ ان کے حلقہ کے مسائل کا جائزہ لینے وہ اپنے کسی نمائندہ کو مقرر کریں۔ مسلم نمائندوں کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ سدرامیا سے ملاقات کرکے راکیش کی موت پر تعزیت ادا کی۔ بعد میں سدرامیا نے میسور کی قدیم لانس ڈاؤن عمارت کا معائنہ کیا، اس کی تجدید کا کام چل رہا ہے۔بعد میں انہوں نے میسور میں دیوراج مارکیٹ کے ملبے کا بھی معائنہ کیا جو اتوار کے روز گر گیاتھا۔ لانس ڈاؤن بلڈنگ کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے افسران سے کہاکہ اس کے قدیم ورثہ کو برقرار رکھنے کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔ دیوراج مارکیٹ کے متعلق سدرامیا نے کہاکہ اس مارکیٹ کی تعمیر میں اچھی تکنیک استعمال نہیں کی گئی۔تقریباً سو سال ٹھہرنے کے بعد یہ عمارت گر گئی ہے۔ دیوراج مارکیٹ کی تجدید کے احکامات صادر کئے جاچکے ہیں۔جلد ہی کام شروع کیا جائے گا۔ماہرین نے وزیراعلیٰ سدرامیا سے کہا ہے کہ دیوراجا مارکیٹ کا جو ایک حصہ گر چکا ہے محض اس کی تجدید کی بجائے پورے مارکیٹ کو منہدم کرکے از سر نو تعمیر کیا جائے۔وزیراعلیٰ سدرامیا کے ساتھ اراکین اسمبلی واسو، سوم شیکھر، میئر بائرپا وغیرہ موجود تھے۔